Sunday, July 25, 2021

صبر جمیل

 صبر جمیل کیا ہے؟؟؟؟

اکثر ہم نے لوگوں کو کسی اپنے کی جدائ پر یاکسی پیاری چیز کے چھن جانے پر کہتے سنا ہے کہ اللہ آپ کو صبر جمیل عطا فرماۓ۔ 

ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیاصبر اور صبر جمیل میں کیا فرق ہے؟ 

انسان نعمتوں کے چھن جانے پر یا مصیبت میں مبتلا ہو جانے پر صبر ضرور کرتا ہے مگر اس کے اس صبر میں اللہ سے شکوہ اس کے صبر کو جبر میں تبدیل کر دیتا ہے۔

اگر یہی صبر اللہ کی شکر گزاری کے ساتھ ہو اور اللہ کی رضا پر راضی ہو جانے کا احساس دل میں پیدا ہو جاۓ تو یہ صفت انسان کو صبر جمیل عطا کرتی ہے۔

یعنی جن حالات میں انسان کے لیے خاموشی سے صبر کرنا مشکل ہو وہاں وہ اللہ کا شکر ادا کرے تو صبر جمیل حاصل ہوتا ہے۔

قران پاک میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔

                          فصبر صبرا جمیلا 

                          پس تم اچھی طرح صبر کر


اور اچھا صبر وہ ہے جس میں جبر نہ ہو بلکہ بندہ اپنے رب کا شکر گزار ہو کہ اسے اللہ نے آزماۓ جانے کے لیے چنا۔

اللہ ہم سب کو شکرگزار بندہ بناے آمین

Thursday, July 1, 2021

Overthinking kills your abilities

 Don't think about problems. Seek the possibility to resolve it. 

The problem comes with its solution. All we need is to concentrate on resolution, not overthinking. 

Allah says in Quran: " Verily with  every hardship comes with ease."

This is our strong belief that Allah never leaves us alone, so don't be upset about your grief. Trust Allah and keep trying to come out of your hard times. 

People who like to be primarily sad about their circumstances can't exist in the world. It is observed that constant negative thoughts vanish good human skills.

Keep making efforts in a positive direction and leave consequences on Allah. It would help if you got succeeded. 

Wednesday, June 16, 2021

Let's get motivated

 Be realistic and leave emotion

It is essential to succeed; you need to do work practically. There is no way to take care of your emotions.

Who cares who are you and what are your feelings? People see your efforts towards your objectives. 

People who put their feelings as their priority often get hurt. Time is running, and only a person can achieve his goals who runs with time. 

I'm afraid I have to disagree with this way of thinking, but it's true. Don't waste your time doing other things. Keep busy yourself to get fruitful consequences. 

Leave think about people, concentrate on your aim of existence. It will help you achieve your achievements, and the most important thing is that you will not get hurt. 


Tuesday, June 8, 2021

 أج میرا موضوع میری وہ خواتین ہیں جو گھروں میں رہ کر اپنی گھریلو ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں جنھیں ہر روز یہ سننے کو ملتا ہے کہ تم کرتی ہی کیا ہو ۔  ایک عمومی نظریہ ہے کہ گھر میں رہ کر اپنے گھر کے کام کاج اور بچوں کی دیکھ بھال کرنا کوئ بڑی بات نہیں ہے۔ کام تو دراصل وہ خواتین کرتی ہیں جو نوکری پیشہ ہیں یا یوں کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ وہ خواتین جو اپنی زندگی کا معیار بہتر بنانے میں اپنے گھر کے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور ان کی  مالی معاونت کر رہی ہیں۔ بلا شبہ نوکری پیشہ خواتین بہترین کام انجام دے رہی ہیں۔ یقینا ان کا مقصد اپنا معیار زندگی بلند کرنا ہے۔ مگر 

اس نظریہ یا سوچ نے ہماری گھریلو خواتین کو خود کو کمتر سمجھنے پر مجبور کر دیا ہے۔جس کی وجہ سے وہ مختلف نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہیں۔

أج میں ان عورتوں کو معاشرے کا ایک فائدہ مند شہری بننے کے لیے کچھ ایسے طریقے بتانا چاہتی ہوں جو ان کو اس کمتری کے دائرے سے نکلنے میں کامیاب کرینگے۔

سب سے پہلے تو اس بات کا یقین کر لیجیے کہ أپ کسی سے کم نہیں اللہ تعالیٰ نے کسی بھی چیز کو بےکار نھیں بنایا اور أپ تو پھر اشرف ا لمخلوقات ہیں۔ اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں اور کوشش کریں کہ کوئ ایسا کام ضرور کریں جو أپ کے خاندان کو فائدہ پنہچانے کا سبب بنے۔ 

اپنے گھر کے کاموں کا شیڈول بنائیے اور کچھ وقت ایسا ضرور رکھیے جس میں أپ کچھ اضافی کام کر سکیں۔

اگر أپ تھوڑا بہت پڑھی لکھی ہیں تو اپنے بچوں کو ٹیوشن بھیجنے کے بجاۓ خود پڑھائیں اور ٹیوشن کی فیس بچائیے۔

اگر أپ پڑھنا لکھنا زیادہ نہیں جانتی تو یقینا أپ کے علاقے میں أس پاس ایسی جگہیں یا ادارے  ضرور ہونگے  جہاں خواتین کو ہنر سکھانے کا کام کیا جاتا ہوگا۔أپ کوئ بھی ہنر سیکھیے جیسے سلائ ، مہندی لگانا یا میک اپ کرنا اور اسے اپنا ذریعہ معاش بنائیے۔

اگر قرأن تجوید سے پڑھنا جانتی ہیں تو أپ اپنے گھر کے اندر رہ کر قرأن پڑھا کر ہدیہ لے سکتی ہیں۔

اگر أپ اچھا کھانا پکانا جانتی ہیں تو أپ اجرت پر اسکولوں کی کینٹین اور دفاتر کے لیے کیٹرنگ کا کام کر سکتی ہیں۔

درحقیقت أپ اپنی اور اپنے خاندان کے ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد کے لوگوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی کام ہو سکتے ہیں جو أپ کر سکتے ہیں۔  ضرورت اس بات کی ہے کہ أپ حالات کا رونا رونے کے بجاۓ خود انحصاری کی طرف أئیں۔ یہ مت سوچیں کہ أپ کیسے وقت نکالیں گی بس یہ یقین رکھیں کہ أپ کر سکتی ہیں کیونکہ مرد اپنی نوکری کے ساتھ گھر نہیں سنبھال سکتا لیکن یہ عورت کا خاصہ ہے کہ وہ گھر اور بچوں کے ساتھ نوکری بھی کر سکتی ہے۔

یاد رکھیے عزت نفس کے لیے خود پر بھروسہ کرنا سیکھیے . . . . . .  اور توجہ دیجیے۔أپ کی أمدنی أپ کے گھر کے مردوں کی تنخواہ کے مقابلے میں کم ہو گی لیکن أپ کے دل کے سکون اور اپنے گھر میں سر اٹھا کر جینے کا باعث ہو گی۔

Thursday, June 3, 2021

 اب تک پاکستان میں استعمال ہونے والی ویکسینز یہ ہیں


                                                       Sinopharm

                                                       

                                                       Sinovac

                                                      

                                                       AstraZeneca

                                                       

                                                       Sputnik 

                                                       

یہ تمام ویکسینز عالمی ادارہ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان سے منظور شدہ ہیں۔ان کے استعمال میں کوئ ڈرنے کی بات نہیں ہے۔

ہر ویکسین کی دو خوراک لگائ جائیں گی اور ایک خوراک سے دوسری خوراک کے درمیان تین سے چار ہفتوں کا وقفہ دیا جاۓ گا اور کسی ویکسین میں تین سے بارہ ہفتوں کا وقفہ دیا جاتا ہے۔



ویکسین لگوانے کے لیے اپنی رجسٹریشن کروانے کا طریقہ یہ ہے۔

اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر 1166 پر بھیجیے 

اس کے بعد أپ کو ایک میسج بھیجا جائیگاجس میں أپ کو أپ کی ویکسین کا کوڈ نمبر دیا جائے گا أپ اس کوڈ نمبر اور اپنے شناختی کارڈ کے ساتھ کسی بھی قریبی ویکسینیشن سینٹر سے ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ 

براۓکرم جتنی جلدی ہو سکے اس عمل کو ممکن بنائیے اور کورونا سے پاک پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کیجیے۔ 


                                       

Monday, May 31, 2021

احتیاط واحد علاج

                        احتیاط واحد علاج


سال ۲۰۲۰ کا أغاز ایک انتہائ مہلک وبا کورونا سے ہوا جس کی وجہ سے اب تک دنیا کی کیا صورت حال ہے ہر شخص اس سے واقف ہے۔ پوری دنیاہر طرح کے جذباتی اور معاشی بحران کا شکار ہے۔ أج دنیا کے تمام سانئسدان مل کر اس وبا کا علاج دریافت کرنے میں کامیاب نہیں ہوۓ لیکن اس سے بچاؤ کے لیے ویکسین بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ 

اب یہ ہم۔سب کا فرض ہے کہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں اور ویکسین لگوائیں۔

الحمدللہ میں نے خود ویکسین لگوا کر اپنی ذمہ داری پوری کردی اب میں چاہتی ہوں کہ میرے تمام رشتہ دار اور دوست بھی ویکسین لگوا کر ایک فرض شناس شہری ہونے کا ثبوت دیں کیونکہ صرف چند لوگوں کے ویکسین لگوانے سے ہم اس وبا سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر سکتے۔ نجات اسی صورت ممکن ہے جب ایک ایک شخص ویکسین لگوالے۔ 

یہ بات اچھی طرح یاد رکھیے کہ أپ کے بچے بھی اسی صورت محفوظ رہ سکتے ہیں جب أپ ویکسین لگوالینگے۔ورنہ أپ خود اپنے بچوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ بچوں کو تو ویکسین نہیں لگ سکتی لہذا أپ خود کو ویکسین لگوا کر اپنے بچوں کو اس وبا سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔                                                             ۔ 

اب ہم بات کرتے ہیں اس ویکسین کو لگانے کے بعد پیدا ہونے والے مضر اثرات کی۔

ویکسین لگوانے کے بعد أپ کو ہو سکتا ہے

بخار

سر درد 

تھکن

پٹھوں کا درد

سردی لگنا

انجیکشن کی جگہ پر معمولی سی سوزش۔

ضروری نہیں ہے کہ یہ تمام۔اثرات ہر شخص میں ہوں ان میں سے کوئ ایک یا دو ہی أپ کو ہو سکتے ہیں اور وہ بھی چوبیس گھنٹوں میں ختم ہو جاتے ہیں۔

ان کے علاوہ ویکسین کے بارے میں جو بھی منفی باتیں پھیلائ جا رہی ہیں ان میں کوئ سچائ نہیں۔ 

اس وبا کو ختم کرنے کے لیے ابھی تمام اقدامات تجرباتی بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں۔ أئیں ہم سب مل ان کوششوں کو کامیاب بنانے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور اپنی زندگی کو پھر سے بہتر بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔


    بلاگ پڑھنے کے بعد اپنے دوستوں کو فارورڈ ضرور کیجیے گا۔ 

    شکریہ

Thursday, December 31, 2020

Do we need role models for our kids?

  In this era where everybody is in a tearing rush, quality parenting is getting extremely difficult. Every parent wants to bring up their kids in a proper direction but mostly appears unsuccessful. So how can we succeed in training our kids effectively? 

Should we present ourselves as a role model for our kids? It looks relatively easy and that's how we don't need to give them example of successful personalities. We just need to be useful in every aspect of life for our kids. Whatever we want to teach them, we just need to present ourselves accordingly; our actions can teach them what we want them to do and to be but is it as easy as it seems? 

A good brought up of your kids depends on your good qualities, so first, before going to make your child, you should analyze yourself. I can give you so many points and tips for your child upbringing, but there is only one formula if you apply in your life, you can get what you want to your child. 

So first bring change in yourself your kids follow your footsteps. 

New year is starting this will be your new year resolution. Let's make our coming days better and happier for our own and for everyone.

Happy New Year