Saturday, August 21, 2021

 قوت برداشت ایک ایسا لفظ ہے جس پر انسان کی پوری زندگی کے اچھے یا برے ہونے کا دارومدار ہے۔ 

قوت برداشت کیا ہے؟؟؟

ایک سوسائٹی یا سماجی گروہ میں ایک دوسرے کے نظریات اور جذبات کا احترام کرتے ہوئے رہنا چاہے وہ آپ کے نظریات سے مختلف ہوں اور ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنا۔

آج اپنے اطراف میں نظر ڈالیے یہ قوت برداشت کہیں نظر نہیں آئیگی۔  ہر شخص ہر کام خود سب سے پہلے کرنے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ ہر سہولت پہلے خود حاصل کرنا چاہتا ہے صبر اور برداشت کے ساتھ انتظار کرنے کا جذبہ اب کہیں نظر نہیں آتا۔ ہر بندہ چاہتا ہے کہ بس دوسروں کو روندتے ہوۓ خود اپنی منزل پر پہنچ جاۓ چاہے اس مقصد کے حصول کے لیے اسے کتنی ہی تکلیف دوسروں کو نہ دینی پڑے۔

بینک کی لائن ہو یا شاپنگ مالز میں قیمتوں کی ادائیگی کا معاملہ ہو ہر جگہ بحث تکرار اور شور سنائی دے گا۔ 

سیاسی، سماجی یا مذہبی کسی بھی مکتبہ فکر کے لوگ ہوں بس وہ اپنے نظریات کی تشہیر چاہتے ہیں دوسرے شخص کی بات سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ

      "فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں"

تو یہ ربط اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب افراد کے اندر مل جل کر زندگی گزارنے کا جذبہ ہو۔ پرامن قومیں اسی جذبے کے ذریعے تشکیل پاتی ہیں اور امن و امان ہی ترقی کی راہیں دکھاتا ہے۔ورنہ انتشار اور لڑائی جھگڑے ایک بدصورت معاشرہ بناتے ہیں جو کہ آہستہ آہستہ ہم بنتے جا رہے ہیں۔

خدارا سوچیے کہ ہم اپنے بچوں کو کیسی زندگی دے رہے ہیں۔


Lets Create a healthy society

 Tolerance is one of the essential pillars of a prosperous and healthy society.

Tolerance means living in a group of people with patience and accept their ideology though it is different from your way of living.

Every person has different political, religious and social thoughts, and everyone has a right to live his life accordingly. However, if you want to be tolerated, you have to be tolerant.

This is a universal rule of giving and take.

To endure different ideas of people makes a peaceful environment. 

Let's take a look at our own lives. Can we say ourselves a tolerant and peaceful nation????

No, we can not say.

Because we can't understand other's points of view, we don't want to solve the issues because we don't communicate to understand, but we are keen to argue to prove others wrong.

This is our social behavior. When people start doing wrong deeds with others to achieve their goals, society begins to ruin them.

What is the solution to this problem??? 

 Starting to say that we can't be right; we can also make mistakes like another can. 

Show your patience in public places, whether you are in a bank or any other institution or stuck in a traffic jam.

Try to help people in their hard times and doing small things too.

Respect others' religions and cultures so that they do the same as yours.

Do not spread hatred about social issues.

Do not spread any incident without knowing the truth.

We all are responsible for all unrest of society. Therefore, spread a sense of responsibility and educate yourself to tolerate a human-like you.

Sunday, August 8, 2021

How to check which folder has the specific email in Outlook

  


How to check which folder has the specific email in Outlook

  • 1. Click the email message in Outlook and press Alt + Enter hotkey from the keyboard to open the properties window for that message. Users can discover the folder of the email 
  • in that window, follow the "Location" detail will display the folder title of that email.

if it shows a subfolder, you can check Full Folder Path by below instructions:

  • Double click and open the message in a standalone window (POP out).
  • Use keyboard hotkey CTRL+SHIFT+F to Open the Advanced Find feature, and in the "Look in" field, it will show you the folder name, and by clicking on the "Browse" button will show you the exact folder path.






 

Sunday, July 25, 2021

صبر جمیل

 صبر جمیل کیا ہے؟؟؟؟

اکثر ہم نے لوگوں کو کسی اپنے کی جدائ پر یاکسی پیاری چیز کے چھن جانے پر کہتے سنا ہے کہ اللہ آپ کو صبر جمیل عطا فرماۓ۔ 

ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیاصبر اور صبر جمیل میں کیا فرق ہے؟ 

انسان نعمتوں کے چھن جانے پر یا مصیبت میں مبتلا ہو جانے پر صبر ضرور کرتا ہے مگر اس کے اس صبر میں اللہ سے شکوہ اس کے صبر کو جبر میں تبدیل کر دیتا ہے۔

اگر یہی صبر اللہ کی شکر گزاری کے ساتھ ہو اور اللہ کی رضا پر راضی ہو جانے کا احساس دل میں پیدا ہو جاۓ تو یہ صفت انسان کو صبر جمیل عطا کرتی ہے۔

یعنی جن حالات میں انسان کے لیے خاموشی سے صبر کرنا مشکل ہو وہاں وہ اللہ کا شکر ادا کرے تو صبر جمیل حاصل ہوتا ہے۔

قران پاک میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔

                          فصبر صبرا جمیلا 

                          پس تم اچھی طرح صبر کر


اور اچھا صبر وہ ہے جس میں جبر نہ ہو بلکہ بندہ اپنے رب کا شکر گزار ہو کہ اسے اللہ نے آزماۓ جانے کے لیے چنا۔

اللہ ہم سب کو شکرگزار بندہ بناے آمین

Thursday, July 1, 2021

Overthinking kills your abilities

 Don't think about problems. Seek the possibility to resolve it. 

The problem comes with its solution. All we need is to concentrate on resolution, not overthinking. 

Allah says in Quran: " Verily with  every hardship comes with ease."

This is our strong belief that Allah never leaves us alone, so don't be upset about your grief. Trust Allah and keep trying to come out of your hard times. 

People who like to be primarily sad about their circumstances can't exist in the world. It is observed that constant negative thoughts vanish good human skills.

Keep making efforts in a positive direction and leave consequences on Allah. It would help if you got succeeded. 

Wednesday, June 16, 2021

Let's get motivated

 Be realistic and leave emotion

It is essential to succeed; you need to do work practically. There is no way to take care of your emotions.

Who cares who are you and what are your feelings? People see your efforts towards your objectives. 

People who put their feelings as their priority often get hurt. Time is running, and only a person can achieve his goals who runs with time. 

I'm afraid I have to disagree with this way of thinking, but it's true. Don't waste your time doing other things. Keep busy yourself to get fruitful consequences. 

Leave think about people, concentrate on your aim of existence. It will help you achieve your achievements, and the most important thing is that you will not get hurt. 


Tuesday, June 8, 2021

 أج میرا موضوع میری وہ خواتین ہیں جو گھروں میں رہ کر اپنی گھریلو ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں جنھیں ہر روز یہ سننے کو ملتا ہے کہ تم کرتی ہی کیا ہو ۔  ایک عمومی نظریہ ہے کہ گھر میں رہ کر اپنے گھر کے کام کاج اور بچوں کی دیکھ بھال کرنا کوئ بڑی بات نہیں ہے۔ کام تو دراصل وہ خواتین کرتی ہیں جو نوکری پیشہ ہیں یا یوں کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ وہ خواتین جو اپنی زندگی کا معیار بہتر بنانے میں اپنے گھر کے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور ان کی  مالی معاونت کر رہی ہیں۔ بلا شبہ نوکری پیشہ خواتین بہترین کام انجام دے رہی ہیں۔ یقینا ان کا مقصد اپنا معیار زندگی بلند کرنا ہے۔ مگر 

اس نظریہ یا سوچ نے ہماری گھریلو خواتین کو خود کو کمتر سمجھنے پر مجبور کر دیا ہے۔جس کی وجہ سے وہ مختلف نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہیں۔

أج میں ان عورتوں کو معاشرے کا ایک فائدہ مند شہری بننے کے لیے کچھ ایسے طریقے بتانا چاہتی ہوں جو ان کو اس کمتری کے دائرے سے نکلنے میں کامیاب کرینگے۔

سب سے پہلے تو اس بات کا یقین کر لیجیے کہ أپ کسی سے کم نہیں اللہ تعالیٰ نے کسی بھی چیز کو بےکار نھیں بنایا اور أپ تو پھر اشرف ا لمخلوقات ہیں۔ اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں اور کوشش کریں کہ کوئ ایسا کام ضرور کریں جو أپ کے خاندان کو فائدہ پنہچانے کا سبب بنے۔ 

اپنے گھر کے کاموں کا شیڈول بنائیے اور کچھ وقت ایسا ضرور رکھیے جس میں أپ کچھ اضافی کام کر سکیں۔

اگر أپ تھوڑا بہت پڑھی لکھی ہیں تو اپنے بچوں کو ٹیوشن بھیجنے کے بجاۓ خود پڑھائیں اور ٹیوشن کی فیس بچائیے۔

اگر أپ پڑھنا لکھنا زیادہ نہیں جانتی تو یقینا أپ کے علاقے میں أس پاس ایسی جگہیں یا ادارے  ضرور ہونگے  جہاں خواتین کو ہنر سکھانے کا کام کیا جاتا ہوگا۔أپ کوئ بھی ہنر سیکھیے جیسے سلائ ، مہندی لگانا یا میک اپ کرنا اور اسے اپنا ذریعہ معاش بنائیے۔

اگر قرأن تجوید سے پڑھنا جانتی ہیں تو أپ اپنے گھر کے اندر رہ کر قرأن پڑھا کر ہدیہ لے سکتی ہیں۔

اگر أپ اچھا کھانا پکانا جانتی ہیں تو أپ اجرت پر اسکولوں کی کینٹین اور دفاتر کے لیے کیٹرنگ کا کام کر سکتی ہیں۔

درحقیقت أپ اپنی اور اپنے خاندان کے ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد کے لوگوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی کام ہو سکتے ہیں جو أپ کر سکتے ہیں۔  ضرورت اس بات کی ہے کہ أپ حالات کا رونا رونے کے بجاۓ خود انحصاری کی طرف أئیں۔ یہ مت سوچیں کہ أپ کیسے وقت نکالیں گی بس یہ یقین رکھیں کہ أپ کر سکتی ہیں کیونکہ مرد اپنی نوکری کے ساتھ گھر نہیں سنبھال سکتا لیکن یہ عورت کا خاصہ ہے کہ وہ گھر اور بچوں کے ساتھ نوکری بھی کر سکتی ہے۔

یاد رکھیے عزت نفس کے لیے خود پر بھروسہ کرنا سیکھیے . . . . . .  اور توجہ دیجیے۔أپ کی أمدنی أپ کے گھر کے مردوں کی تنخواہ کے مقابلے میں کم ہو گی لیکن أپ کے دل کے سکون اور اپنے گھر میں سر اٹھا کر جینے کا باعث ہو گی۔